نوحہ پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے اُمت مٹا رہی ہے آثار پنجتن کے تابوت سے لپٹ قاسم پکارے بابا آنسو اخی کے دیکھو نوحے سنو بہن کے آخر کی ہچکیوں میں شبّرنے روکے چُومے شبیر کا گلا اور بازو بڑی بہن کے زینب پکاری بھائی دل ڈوبتا ہے میرا اُگلو نہ دل [...]
Archive for the ‘امام حسن علیہ السلام’ Category
پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے
Posted in امام حسن علیہ السلام on July 8, 2008 | Leave a Comment »
جیسے ہی گھر سے نکلا تابوت مجتبیٰ کا
Posted in امام حسن علیہ السلام on June 12, 2008 | Leave a Comment »
نوحہ نوحہ جیسے ہی گھر سے نکلا تابوت مجتبیٰ کا تیروں میں گِھر گیا فرزند مُرتضیٰ کا کیا ملا تجھے اے ظالم قاسم یتیم کر کے کچھ بھی نہ خوف آیا دل میں تیرے خدا کا رو کو نہ آج مجھ کو اے چاند فاطمہ کے دم گھٹ رہا ہے اب تو عباس کی وفا [...]
سبطِ نبی پہ کیسا یہ آخری سفر ہے
Posted in امام حسن علیہ السلام on May 31, 2008 | 1 Comment »
نوحہ سبطِ نبی پہ کیسا یہ آخری سفر ہے لاشہ بھی مجتبیٰ کا یا رب لہو میں تر ہے بعد نبی نہ میں نے دنیا میں چین پایا مرنے کے بعد مجھ کو تربت میں بھی رلایا شوہر کو تیغ ماری بیٹے کو سم پایا بابا ہمارے گھر پہ امت کی کیوں نظر ہے شبیر [...]
تابوت حسن پر ہائے کیوں تیروں کا سایہ ہے
Posted in امام حسن علیہ السلام on May 31, 2008 | Leave a Comment »
نوحہ نوحہ تابوت حسن پر ہائے کیوں تیروں کا سایہ ہے پہچانو مسلمانوں یہ زہرا کا جایا ہے لے جاﺅ جنازے کو یہ کس نے کہا لوگو احسان رسالت کا تیروں سے لوٹایا ہے زینب کی آہ و زاری سے کہرام مچا ہر ُسو نانا کی نشانی کو کیوں زہر پلاےا ہے امت کی وفا [...]
اُٹھا کوئی جنازہ پھر فاطمہ کے گھر سے
Posted in امام حسن علیہ السلام on May 31, 2008 | 1 Comment »
نوحہ نوحہ اُٹھا کوئی جنازہ پھر فاطمہ کے گھر سے دُنیا تڑپ رہی ہے فریاد کے اثر سے قبرِ رسول تڑپی تھرا گیا مدینہ آنسو لہو کے ٹپکے زہرا کی چشمِ تر سے تابوت سے لپٹ کر شبیر ایسے تڑپے جیسے کہ آج اُٹھا سایہ علی کا سر سے کیا زہر تھا کہ جیرا یوں [...]