Feeds:
Posts
Comments

Archive for the ‘امام حسن علیہ السلام’ Category

نوحہ
پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے
اُمت مٹا رہی ہے آثار پنجتن کے

تابوت سے لپٹ قاسم پکارے بابا
آنسو اخی کے دیکھو نوحے سنو بہن کے

آخر کی ہچکیوں میں شبّرنے روکے چُومے
شبیر کا گلا اور بازو بڑی بہن کے

زینب پکاری بھائی دل ڈوبتا ہے میرا
اُگلو نہ دل کے ٹکڑے صدقے گئی دہن کے

زینب ہے بال [...]

Read Full Post »

نوحہ
نوحہ
جیسے ہی گھر سے نکلا تابوت مجتبیٰ کا
تیروں میں گِھر گیا فرزند مُرتضیٰ کا

کیا ملا تجھے اے ظالم قاسم یتیم کر کے
کچھ بھی نہ خوف آیا دل میں تیرے خدا کا

رو کو نہ آج مجھ کو اے چاند فاطمہ کے
دم گھٹ رہا ہے اب تو عباس کی وفا کا

شہروں میں ہے جنازہ ہائے اُسکے لاڈلے [...]

Read Full Post »

نوحہ
سبطِ نبی پہ کیسا یہ آخری سفر ہے
لاشہ بھی مجتبیٰ کا یا رب لہو میں تر ہے

بعد نبی نہ میں نے دنیا میں چین پایا
مرنے کے بعد مجھ کو تربت میں بھی رلایا
شوہر کو تیغ ماری بیٹے کو سم پایا
بابا ہمارے گھر پہ امت کی کیوں نظر ہے

شبیر کربلا میں جب دین کو بچانا
اکبر کی [...]

Read Full Post »

نوحہ
نوحہ
تابوت حسن  پر ہائے کیوں تیروں کا سایہ ہے
پہچانو مسلمانوں یہ زہرا کا جایا ہے

لے جاﺅ جنازے کو یہ کس نے کہا لوگو
احسان رسالت کا تیروں سے لوٹایا ہے

زینب کی آہ و زاری سے کہرام مچا ہر ُسو
نانا کی نشانی کو کیوں زہر پلاےا ہے

امت کی وفا دیکھو مظلوم کی میت پر
کچھ پھولوں کی بارش [...]

Read Full Post »

نوحہ
نوحہ
اُٹھا کوئی جنازہ پھر فاطمہ کے گھر سے
دُنیا تڑپ رہی ہے فریاد کے اثر سے

قبرِ رسول تڑپی تھرا گیا مدینہ
آنسو لہو کے ٹپکے زہرا کی چشمِ تر سے

تابوت سے لپٹ کر شبیر ایسے تڑپے
جیسے کہ آج اُٹھا سایہ علی کا سر سے

کیا زہر تھا کہ جیرا یوں سینہ  حسن کو
کٹ کٹ کے گر رہے [...]

Read Full Post »