چلو حسینؑ تمہیں کربلا بلاتی ہے
صدائے فاطمہ زہراؑ لحد سے آتی ہے
چلی یثرب سے آلِ مضطفےٰ کہرام برپا ہے
لپٹ کر فاطمہؑ کی قبر سے شبیرؑ تڑپا ہے
جدا کنبہ ہوا صغراؑ ہے تنہا گھر میںرونے کو
نہ اکبرؑ لینے آئے ہیں نہ دیکھی کربلا کیا ہے
چھوڑتا ہوں میں وطن دیں کو بچانے کیلئے
جو کیا وعدہ ازل میں وہ نبھانے کیلئے
ہو گئی نانا مکمل سب میری قربانیاں
آ گیا دنیا میں اصغرؑ تیر کھانے کیلئے
مسافروں میں نہیں ہے نام صغراؑ کا
خبر سے زرد ہے چہرہ تمام صغراؑ کا
گزار دیتی ہے وہ انتظارِ شام میں دن
نہیں گزرتا مگر وقتِ شام صغراؑ کا