عباس شہادت سے پہلے اک بار مجھے بھائی کہہ دے
میرا برسوں کا ارمان ہے یہ اک بار مجھے بھائی کہ دے
- جس لشکر کا سردار تھا میں اب کون رہا اُس میں غازی
خود دیکھ زرا میری غربت کو بس اکبر و اصغر ہیں غازی
کیوں کہتا ہے سردار مجھے اک بار مجھے بھائی کہ دے
- تیرے بازو ڈھونڈنے ہیں مجھ کو ابھی تیری لاش بنانی ہے
پھر نہر سے لے کر لاش تیری مجھے خیموں میںپہچانی ہے
میری مشکل کو آساں کر دے اک بار مجھے بھائی کہہ دے
- اصغر کی طرح تجھ کو بھی تو گودی میں کھلیایا ہے میں نے
اکبر کی طر ح تجھ کو غازی بڑے ناز سے پالا ہے میں نے
کچھ مانگتا ہوں میں اب تجھ سے اک بار مجھے بھائی کہہ دے
- کچھ دیر کو سینہ ِ اکبر سے برچھی باہر کو لانی ہے
اس ٹوٹی کمر سے پھر مجھ کو اکبر کی لاش اُٹھانی ہے
میں کیسے کر پاﺅں گا یہ اک بار مجھے بھائی کہہ دے
- رن میں لے جا کر اصغر کو کرنا ہے سوالِ آب ابھی
اس تیتے صحرا میں ہائے پھر قبر بنانی ہے اُس کی
میری کچھ تو ہمت بڑھا دے اک بار مجھے بھائی کہہ دے
- جانا ہے سفر پہ شام جسے جسے کہتا ہے تو شہزادی
بھائی تو کہہ اک بار مجھے اُس کا بھی ہے ارمان یہی
زینب کو بتاﺅں گا جا کے اک بار مجھے بھائی کہہ دے