نوحہ
کیوں چا ک گریبا ن سکینہ کا ہوا ہے
کیا سایہ شبیر ابھی سر سے اُٹھا ہے
کیو ں سر پہ سکینہ کے نہیں چھوُٹا سا بر قع
اظہار یتمی ہے کہ سر خا ک بھرا ہے
صغر ی نے لکھا خط میں سلا مت ر ہے یا رب
ا کبر میر ے با با کی ضیعفی کا اصاء ہے
پیا سے کو قضاء سا نس بھی لینے نہیں دیتی
لا یا ہے ابھی لا ش ا بھی لینے چلا ہے
لا شو ں میں جو عو ن و محمد کا ہے جو ڑ ا
ہمشیر نے شبیر کے صد قے میں دیا ہے
سجا د چلے شا م کو ہو خیر خدا یا
پر دیس ہے غر بت ہے یتیمی ہے جفا ہے
بر چھی کے نکل نے کا نہ دیکھا گیا منظر
رو تے ہو ے نبیو ں نے بھی مُنہ پھیر لیا ہے
گھو ڑ ے سے گر ے شا ہ تو تیرو ں نے سمبھا لا
رُو تے ہُوے نبیو ں نے بھی مُنہ پھیر لیا ہے
شہزا دیا ں عالم کیں چلیں جا نب کو فہ
نعلین ہیں پا و ¿ں میں نہ بُر قع نہ ردا ہے
کس کے لیے چُھو ٹا سا گھٹرا کُھو د رہے ہیں
کس کا لہو شبیر نے چہرے پہ ملا ہے
مظلو م کی خط پر کبھی لا شو ں پہ نظر ہے
حیرا ن پیا می ہے کہ یہ ما جرا کیا ہے
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com