نوحہ
فاطمہ کی قبر پہ بنت علی ھے نوحہ خواں
ما ں سے بیٹی کھہ رہی ہے کربلا کی داستا ں
ےو ں پٹری فر زند تیرے نے نما ز آخر ی
قبلہ رو سجدہ میں سر حلقو م پر خنجر رواں
امی دستار یتمیی یو ں بندھی سجا د کو
بیٹیریا ں پاو ں اور گر دن میں تھا طوق گرا ں
بعد قتل شا ہ دین ہر سو اندھیرا چھا گیا
اندھیاں ا’ٹھی فضاءمیں خو ن رویا آسما ں
کٹ گئے غا زی کے با زو اور میںتکتی رہی
تیر اصغر کے لگا اکبر کے سینے میں سنا ں
جل گے خیمے سرو ں سے چادریںبھی چھین لیں
تا زیانے اس قدر برسے تھا محشر کا سما ں
میں نے خود بھاندی ستم ہا تھو ں میں بھا بھی کے رسن
کا ش چک ہو تی زمیں یا ٹوٹ پٹرتا آسما ں
لے چلے سنساںراہو ں سے ہمارا قافلہ
سامنے منزل نہ کوئی اور منزل کا نشا ں
دہیکتی چنگاریا ں تھی یا کے زرے ریت کے
اس پہ وہ پر خا ر راہیں تھا بر ہناں ساربا ں
آنسو ں میں خون کے پنہاں تھا صدمہ اور ہی
دہکتے دل کی اگ تھی جس سے نہیں ا’ٹھتا دھواں
گو د خا لی ہے ہر اک کی اور سروں میں خاک ہے
آگیا لٹ’ کے گھروںمیں مصطفےکا کارواں
تھی پھوپھی سے پو چھتی صغری بتاو کچھ مجھے
کیا ہوے’ عون و محمدقاسم و اکبر کہاں
گر پٹری غش کر کے ذ ینب قبر پہ ما ں کی نثا ر
کب تلک ماں کو سناتی وہ ستم کی داستاں
سوز تنو یر حسین بشیر
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com