نوحہ
رہائی ہو گی تو تیری قبر پہ آﺅنگی
حسین حال تمہیں شام کا سناﺅنگی
یہ شام والے کریں چا ہے صد ہزار ستم
نہ لڑ کھڑائیں گے بھیا تیری بہن کے قدم
علی کی بیٹی ہوں بن کر علی دکھاﺅنگی
میں بھُول سکتی ہوں اپنی ردا کا لُٹ جانا
یوںُ نسل جعفر ِطیار کا بھی مٹ جانا
کسی گھڑی نہ تیری بے ِ کسی بھلاﺅنگی
نظر کے سامنے ہو گا تمہارا زخمی بدن
کبھی بنو ں گی علی اور کبھی بنوں گی حسن
تیرا پیام میں کچھ اِسطرح پھیلاﺅنگی
کچھ اسِطرح سے کرونگی تلاوت قرآں
نمازی مانے گا شبیر تم کو سارا جہاں
بغیر تیغ کے میں انِقلاب لاﺅں گی
میرے عباس سے کہدو تمُہیں خُدا کیلئے
بہن کا وعدہ ہے غازی تیری وفا کیلئے
گلی گلی میں تیرا میں علم لگاﺅں گی
حسین تیرے غموں میں جو روُنے والے ہیں
تیری قسم یہ نرالی توقیر والے ہیں
گنُا ہگار ہوں لیکن میں بخشاواﺅں گی
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com
SLj6mG comment4 ,