Feeds:
Posts
Comments

Archive for July, 2008

نوحہ
رب جانٹریں کیویں کاظم نے اے
قید نبھائی
بغداد دے زندان وچوں چودہ سال دے بعدوں ملی مر کے رہائی
 
کاظم نوں جد زہر ملی دل ٹکڑے
ٹکڑے ہویا
قیدی پترنوں ویکھن لئی ماں حسنین دی ماں دوندی بقیے چوں ہے آئی
 
کمر جھکا کے سید نے زندان چہ
زندگی گزاری
فیروی ایس حالات چہ شاہ نو ں وچ زندان دے ظالم ہائے [...]

Read Full Post »

نوحہ
رُونے کیلئے کافی ہے سجاد تیرا نام
تو شہنشاہِ درد ہے بتلا رہی ہے شام

چلا بِے کسوں کا کارواں
بیمار لوگوں سارباں
ہے سنگ سرِ عریاں
شہ لا فتح کی بیٹیاں
کرب و بلا کے دشت میں برپا ہوا کہرام

مُشکل تھی بڑی وہ گھڑی
دربار میں زینب کھڑی
شبیر کے لبِ پر چھڑی
سجاد نے پہنی کھڑی
دربارِ یزیدی کے لِرزے تھے [...]

Read Full Post »

نوحہ
رہائی ہو گی تو تیری قبر پہ آﺅنگی
حسین حال تمہیں شام کا سناﺅنگی
 
یہ شام والے کریں چا ہے صد ہزار ستم
نہ لڑ کھڑائیں گے بھیا تیری بہن کے قدم
علی کی بیٹی ہوں بن کر علی  دکھاﺅنگی
 
میں بھُول سکتی ہوں اپنی ردا کا لُٹ جانا
یوںُ نسل جعفر ِطیار کا بھی مٹ جانا
کسی گھڑی نہ [...]

Read Full Post »

نوحہ
رہ گئی علی کی بیٹی غم اٹھانے کے لئے
حسین بھی چلے گئے ہیں سر کٹانے کےلئے

حسین کی نگاہ باوفا کو ڈھونڈنے لگی
قبر چھ مہینے والے کی بنانے کےلئے

جلادئیے سبھی چراغ دشت میں حسین نے
ایک بیٹا رہ گیا ہے شام جانے کےلئے

قاسم حزیں کی لاش ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی
ہر طرف سے دشتِ کربلا سجانے کےلئے

لگائیں گے وہ [...]

Read Full Post »

نوحہ
پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے
اُمت مٹا رہی ہے آثار پنجتن کے

تابوت سے لپٹ قاسم پکارے بابا
آنسو اخی کے دیکھو نوحے سنو بہن کے

آخر کی ہچکیوں میں شبّرنے روکے چُومے
شبیر کا گلا اور بازو بڑی بہن کے

زینب پکاری بھائی دل ڈوبتا ہے میرا
اُگلو نہ دل کے ٹکڑے صدقے گئی دہن کے

زینب ہے بال [...]

Read Full Post »

نوحہ

نانا تیرے وسدے شہر وچوں شبیر مسافر چلیا
تیرے کلمہ گو نئیں رئنڑ دیندے تیرے جگر دے ٹکڑے نوں
سنگ بالا تے مستوراں دے تیرے دین دا ناصر چلیا

صغرا دی بنی مجبوری اےدی شکل بتول دی پوری
متا لوکی سمجھن زہرا اے وچ شام بازاراں دے
اے اس لئے چھٹکے روندی نوںایدا ویر علی اکبر چلیا

جتھے لکھنا سی بسم [...]

Read Full Post »