نوحہ
کلمہ گو یہ تو بتا ہم تیری کیا بات کریں
تو نے جو آلِ محمد پہ ستم ڈھائے ہیں
کر دیا قتل بلا کے گھر مسلمان تو نے
آلِ احمد کے فرد خون میں نہلائے ہیں
پانی مانگا تھا لگا تیر گلے اصغر پہ
بوند پانی کے عیوض تیروں کے جام آئے ہیں
پوچھا سجاد سے زینب نے یہ چلتے چلتے
شام ہے دور ابھی کتنی ہم کہاں آئے ہیں
بوسہ لیتے تھے محمد جس کلے کا لوگو
اس پہ شبیر نے امت سے رخم کھائے ہیں
ہم سے کہتے ہو کہ شبیر کا ماتم نہ کرو
ہم تو غمخوار ہیں رونے کےلئے آئے ہیں
لٹ گئی کرب و بلا میں فاطمہ کی بیٹی
اس کے بھائیوں کے جوسر نیزوں پہ اٹھوائے ہیں
چھن گئی چادرِ زینب رہے عباس نہ جب
ہائے بیمار کو زنجیر ہی پہنچائے ہیں
شام میں پہنچی جو زینب یہ دیا امت نے
ثانی زہرا پہ میہ پتھروں کے برسائے ہیں
کیسے منظور لکھے کرب و بلا کا منظر
تیغ و تلوراوں نے مولا پہ کیے سائے ہیں
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com