نوحہ
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ہو تم کہاں بابا
آواز دے کے بلاﺅ ہو تم جہاں بابا
تو بانہیں کھُول کے اِک بار تُو بلا مجھ کو
لٹا کے سینے پہ اِپنے قرآں سُنا مجھ کو
کہ نیند آتی نہیں تیرے بِنا بابا
ہمیشہ تیرے ہی سینے پہ بابا سُوتی ہوں
کھڑی ہوں مُوت کے صحرا میں تنہا روتی ہوں
ہے میرے کانوں سے تیرا لہو رواں بابا
وہ جِس کے پاس میرے دونوںگُوشوارے ہیں
تیری سکینہ کو اُس نے طمانچے مارے ہیں
یہ دیکھ چہرے پہ میرے پڑے نشان بابا
یہ سُوچتی ہوں پلٹ کر میں کیسے جاﺅں گی
بہت اِندھیرا ہے رستہ میں بھُول جاﺅں گی
بچھڑ گیا ہے سکینہ سے کارواں بابا
خلوصِ دِل سے جو غم میں تمہارے آئے گا
تیری قسم وہ نرالی توقیر پائے گا
وہ ماتمی ہو کوئی ہوگا نوحہ خُواں بابا
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com