نوحہ
نوحہ
حسین کیا ہے خدا ہی جانے
ہو رازِ کبریا جو اور دین کی بقا
کیا عظمتِ حسین ہے، کیا عزتِ حسین
دلبندِ مصطفےٰ ہے جو، زہرا کے دل کا چین
عصمت کے شجر میں کوئی، ایسا نہیں ہوا
عشقِ خدا کا دعویٰ تو، آسان ہے مگر
تو اپنی بوڑھی پشت پر، ہاں تھام کر جگر
اپنے جوان بیٹے کی، میت ذرا اُٹھا
قبرِ معصوم کھود کر، تلوار سے حسین
ہاتھوں سے دفن کرنے لگے، اپنے دل کا چین
خود صبر ہاتھ باندھ کر، بے صبر ہو گیا
عباس جیسے بھائی کو، پابندِ جنگ کریں
تلوار ۔۔۔۔۔۔۔ سے لگے، خالق کو دنگ کریں
صفیںِ انبیانِ کربلا، دیتی رہی صدا
زخموں کا آستاں بنے، دکھ درد کا خدا
سب کچھ لٹا کے دیتا ہو، غربت کی جو صدا
تاریخِ بشر میں نہیں، شبیر دوسرا
خالق کے جس نے دین کو، سلامت بچا لیا
تاجِ نبی نبی کی جبی پر سجا دیا
ہے دراصل حسین ہی معصومِ لا اللہ
نوحہ خواں سنگت: ناصر اصغر پارٹی، انجمن شباب المومنین، کراچی
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com