نوحہ
نوحہ
جیسے ہی گھر سے نکلا تابوت مجتبیٰ کا
تیروں میں گِھر گیا فرزند مُرتضیٰ کا
کیا ملا تجھے اے ظالم قاسم یتیم کر کے
کچھ بھی نہ خوف آیا دل میں تیرے خدا کا
رو کو نہ آج مجھ کو اے چاند فاطمہ کے
دم گھٹ رہا ہے اب تو عباس کی وفا کا
شہروں میں ہے جنازہ ہائے اُسکے لاڈلے کا
ہوتا تھا جو سہارا مشکل میں انبیائ کا
ذاتی نہ کوئی جنگ تھی اولاد مرتضیٰ کی
سارا ہی معاملہ تھا اسلام کی بقاءکا
قلم و دوات کاغذ جو نہ دے سکے نبی کو
وہ خیال کرے گی امت کیا آلِ مصطفی کا
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com