نوحہ
صغرا نے آنسووں کے کتنے دئیے جلائے
پردیس جانے والے پھر لو ٹ کر نہ آئے
بیٹھی رہی وہ د’کھیا بس آس ہی لگائے
صغرا نے آنسوو ں کے کتنے دئیے جلائے
پردیس جا کے اکبر بھولے ہیں اپنا وعدہ
بھیا کو یاد وعدہ جا کر کوئی دلائے
جب چاند دیکھتی ہے وہ عید کا فلک پر
کچھ چاند انپے گھر کے صغرا کو یاد آئے
کرتی ہے عید کے دن اشکوں سے وہ چراغاں
عیدی میں اب وہ دُکھیا بس دکھ ہی تو پائے
رو رو کے عید گزری نوروز بھی گزارا
بچھڑے ہوں جسکے انپے وہ عید کیا منائے
اکبر سے جاکے کہنا مرتی ہے تیری صغرا
جب کر بلا کی جانب یثرب سے کوئی جائے
صغرا نے خط میں لکھا بیکار ہے یہ جینا
نہ موت آئی مجھکو بابا نہ آپ آئے
میں منتظر ہوں کب سے بیٹھی ہوئی ہوں در پر
اب موت کے پسینے میری جنیں یہ آئے
شاید مباہلے کی پھر آ پڑے ضرورت
زہرا کی بیٹیوں کو شبیر ساتھ لائے
خیمے جلانے والے ہیں جاں نشیں انہیں
بنتِ نبی کے گھر پر جو آگ لے کر آئے
چہرے پر انگلیوں کے اب تک نشاں ہیں باقی
زندان میں سکینہ روتی ہے منہ چھپائے
خاموش بہہ رہے ہیں آنکھوں سے خوں کے آنسو
سجاد تو نے دل پر کیا کیا نہ زخم کھائے
رونے پہ دے تسلی بے آس قیدیوں کو
حال اپنے دل کا زینب جا کر کیسے سنائے
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com