نوحہ
نوحہ
تیروں کے مصلے پر وہ سجدہ شکرانہ
شبیرنے بتلایا اسلام پہ مر جانا
کچھ اسطرح لاش آئی اک رات کے بیا ہے کی
افسوس کہ مادر نے بیٹے کو نہ پہچانا
سوچو تو مسلمانوں یہ بات کوئی کم ہے
احمد کی نواسی کا دربار میں آجانا
یہ ماں کی وصیت تھی عباس دلاور کو
جب دین پہ بن آئے تم دین پہ مر جانا
دنیا تو نہ بھولے گی عباس وفا تیری
تلوار نہیں کھینچی آقا کا کہا مانا
اک تیر علی اصغر کی گردن میںلگا آکر
معصوم کا ہنس دینا اور موت کا گھبرانا
برچھی علی اکبر کے سینے سے نکل آئی
دیکھا نہ گیا شاہ سے یوں دل کا نکل آنا
دربار میں فضہ نے لوگوں سے کہا رو کر
آتی ہے نبی زادی تعظیم کو جھک جانا
تاحشر رلائے گا مولا کی تیاری پر
دلدل کی رکابوں سے بیٹی کا لپٹ جانا
میت علی اصغر کی ہاتھوں پہ اٹھا بولے
اللہ تیرے آگے ہے شبیر کا نذرانہ
حیدر کی جلالت کا انداز نظر آیا
وہ شامِ غریباں میں زینب کا نہ گھبرانا
بھولے گا زمانے کو منظر نہ کبھی ناصر
معصوم کی میت کو شبیر کا دفنانا
ناصر کا یہ دعویٰ ہے بنتا ہے حسین ایسے
سانچے میں امامت کے قرآن کا ڈھل جانا
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com