نوحہ
سبطِ نبی پہ کیسا یہ آخری سفر ہے
لاشہ بھی مجتبیٰ کا یا رب لہو میں تر ہے
بعد نبی نہ میں نے دنیا میں چین پایا
مرنے کے بعد مجھ کو تربت میں بھی رلایا
شوہر کو تیغ ماری بیٹے کو سم پایا
بابا ہمارے گھر پہ امت کی کیوں نظر ہے
شبیر کربلا میں جب دین کو بچانا
اکبر کی طرح فدیہ قاسم کو بھی بنانا
ممکن نہیں ہے میرا کرب و بلا میں آنا
نصرت کو تیری بھائی حاضر میرا پسر ہے
غازی سے کہہ رہے تھے شبّر یہ وقتِ رخصت
برسائے تیر میرے لاشے پہ گر یہ امت
کرنا نہ جنگ بھائی میری ہے یہ وصیت
تجھ کو قسم وفا کی تو ہاشمی قمر ہے
آل نبی کی عظمت دل سے مٹا رہے ہیں
قرآن پر یہ قاری فتوے لگارہے ہیں
مظلوم تیرے غم کو بدعت بتا رہے ہیں
ان کی خطا نہیں ہے یہ خون کا اثر ہے
اولاد مصطفےٰ پہ غم کی گھٹا ہے چھائی
خوشیاں نصیب میں نہ آل نبی کے آئیں
قبریں جدا جدا ہیں سادات کی بنائیں
امت تیرے ستم سے بکھرا ہوا یہ گھر ہے
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com
Please I need track record of this noha also…This noha has been written by my friend (Syed Iqbal Haider Zaidi) and prepared by Katri Bawa – Lahore.
Please check….!thanks
MOLA APKO KHUSH RAKHAY