نوحہ
یہ کس نے کہا بے کس و لاچار ہے زینب
عباس کہیں حیدر کرار ہے زینب
آجائے گا پھر لوٹ کے حیدر کا زمانہ
بچوں کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھانا
اے شام غریباں ابھی بیدار ہے زینب
جو ثانی زہرا ہے مشیت کی نظر میں
خود جس کےلئے منزلیں رہتی ہیں سفر میں
وہ اعلیٰ نسب قافلہ سالار ہے زینب
اے ظالم کہاں اب یہ تیرا راج رہے گا
نہ تخت رہے گا نہ تیرا تاج رہے گا
مظلوموں کے لشکر کی علمدار ہے زینب
وہ دیکھ چلی زینبی خطبات کی تلوار
وہ دیکھ تہہ و بالا ہوا شام کا دربار
حیدر کی طرح برسرِ پیکار ہے زینب
وہ دیکھ دعا ہوگئی مظلوموں کی مقبول
شبیرکا قاتل نظر آنے لگا مقتول
غازی کی بہن ہے بڑی جیدار ہے زینب
بے موت مرا جاتا ہے ہر غاصب و غدار
باطل کیلئے گرم ہوا موت کا بازار
اس وقت یقینا سرِ بازار ہے زینب
ہوں لاکھ مخالف یہ زمانے کے ستمگر
ممکن نہیںاس غم کو کوئی روک لے گوہر
احمد کے نواسے کی عزادار ہے زینب
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com