نوحہ
کربل کے واقعے کی کوئی بات لکھ رہا ہوں
زینب کے اجڑنے کے حالات لکھ رہا ہوں
امت نے ہے سکینہ کو شام تک ستایا
روئی نہ پھر کبھی وہ کچھ ایسے چپ کرایا
مر کر نہ کھلے اسکے میں ہاتھ لکھ رہا ہوں
بارہ گلے تھے باندھے بس ایک ہی رسن میں
بعدِ عصر جو لوٹی امت شکی نے بن میں
قاسم کی وہ میں اجڑی بارات لکھ رہا ہوں
غربت کا نعرہ جس دم شبیر نے لگایا
جھولے سے خود کو اس دم معصوم نے گرایا
اصغر کے غازی والے جذبات لکھ رہا ہوں
مرسل بھی سن رہا ہے رحمٰن سن رہا ہے
سجاد کے مصائب قرآن سن رہا ہے
ڈوبی ہوئی لہو میں آیات لکھ رہا ہوں
کبھی ڈھونڈتی سکینہ کبھی بچوں کو سلاتی
کبھی غش سے روکے زینب سجاد کو جگاتی
شامِ غریباں والی وہ رات لکھ رہا ہوں
عاشور تو ہوئی تھی اکبر تیری اذاں سے
شام غریباں آئی زینب تیری ردا سے
یہ غم میں جس کو روکر دن رات لکھ رہا ہوں
تنہا نہیں ہے روئی سر ننگے زہرہ جائی
جس جس جگہ بھی زینب ہوکے اسیر آئی
ہر موڑ پہ میں زہرا کو ساتھ لکھ رہا ہوں
کرتا حسن سواری جو دوشِ مصطفی پر
جس کو حسین و منی کہتے رسول اکثر
تیروں کے سائے میں اب وہ ذات لکھ رہا ہوں
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com