نوحہ
فرمانِ رسالت کو بھلاتے ہو مسلماں
کیوں فاطمہ زہرا کو ستاتے ہو مسلماں
معصومہ ہے مخدومہ حسنین کی مادر ہے
تفسیر ہے کوثر کی یہ بنتِ پیعمبرہے
کیوں پہلو پہ دروازہ گراتے ہو مسلماں
تم جانتے ہو لوگو اِس بی بی کی عظمت کو
لوٹایا ہے کیوں خالی خاتونِ قیامت کو
کیوں آگ اُس کے گھر کو لگاتے ہو مسلماں
بابا کے مدینے میں ہائے رات جو آتی ہے
رونے کے لئے باہر وہ شہر سے جاتی ہے
کیوں رونے پہ پابندی لگاتے ہو مسلماں
دربار میں مخدومہ حق مانگنے آئی ہے
معصوم گواہوں کو ہمراہ وہ لائی ہے
دِل کس لئے زہرا کا دُکھاتے ہو مسلماں
جس شخص نے احمد کو ہذیان سنایا تھا
جس شخص نے کوڑے سے زہرا کو رُلایا تھا
کیوں ناز اُس شقی کے اُٹھاتے ہو مسلماں
تم نے تو ثقیفہ میں اجلاس بٹھائے تھے
احمد کے جنازے پہ تم لوگ نہ آئے تھے
حق کیسے خلافت پر جتاتے ہو مسلماں
کیا احمدِ مُرسل سے یہ پیار کیا تم نے
زہرا ہی کے روضے کو مسمار کیا تم نے
تم کیسی محبت یہ دکھاتے ہو مسلماں
حیدر کے گلے میں بھی ڈالا ہے رسن تم نے
شبیر کو مارا ہے مارا ہے حسن تم نے
اَب عابدِ مضطر کو رلاتے ہو مسلماں
زہرا کا یہ وعدہ ہے توقیر وہ پائے گا
میرے گھر کے اُجڑنے کا جو سوگ منائے گا
پھر کس لئے تم فتوے لگاتے ہو مسلماں
کلام : توقیرکمالوی
سوز: وحید کمالوی
نوحہ خواں : ناظم پارٹی، انجمن شباب المومنین
© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com