Feed on
Posts
Comments

نوحہ

رُونے کیلئے کافی ہے سجاد تیرا نام
تو شہنشاہِ درد ہے بتلا رہی ہے شام


چلا بِے کسوں کا کارواں
بیمار لوگوں سارباں
ہے سنگ سرِ عریاں
شہ لا فتح کی بیٹیاں
کرب و بلا کے دشت میں برپا ہوا کہرام


مُشکل تھی بڑی وہ گھڑی
دربار میں زینب کھڑی
شبیر کے لبِ پر چھڑی
سجاد نے پہنی کھڑی
دربارِ یزیدی کے لِرزے تھے در و بام


زینب پُکارے بِے وطن
بھائی میرا ہے بِے کفن
کر دے اُسے کوئی دفن
میرے ہاتھوں میں باندھی رسن
ہائے کیسے سُنا ہوگا بیمار نے پیغام


زندان سیاہ پوش ہے
تنہائی آغوش ہے
عابد کہے نہ ہوش ہے
دم ٹوٹا ہے خامُوش ہے
اُمّت نے سکینہ  کو دیا مُوت کا اِنعام


مستوروں میں اک مرد ہے
غیرت سے چہرہ زرد ہے
کربل کی زمیں گرد ہے
زینب کا دل میں درد ہے
روتا ہے سر جھکا کے کرتا نہیں کلام


زندان کی سویا خاک پر
عادل لہو پُوشاک پر
چرچے ہوئے اِفلاک پر
سُلطانی لُولاک پر
ہیں جن و ملائک بھی سجاد کے خُدام

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

رہائی ہو گی تو تیری قبر پہ آﺅنگی
حسین حال تمہیں شام کا سناﺅنگی

 
یہ شام والے کریں چا ہے صد ہزار ستم
نہ لڑ کھڑائیں گے بھیا تیری بہن کے قدم
علی کی بیٹی ہوں بن کر علی  دکھاﺅنگی

 
میں بھُول سکتی ہوں اپنی ردا کا لُٹ جانا
یوںُ نسل جعفر ِطیار کا بھی مٹ جانا
کسی گھڑی نہ تیری بے ِ کسی بھلاﺅنگی

 
نظر کے سامنے ہو گا تمہارا زخمی بدن
کبھی بنو ں گی علی اور کبھی بنوں گی حسن
تیرا پیام میں کچھ اِسطرح پھیلاﺅنگی

 
کچھ اسِطرح سے کرونگی تلاوت قرآں
نمازی مانے گا شبیر تم کو سارا جہاں
بغیر تیغ کے میں انِقلاب لاﺅں گی

 
میرے عباس سے کہدو تمُہیں خُدا کیلئے
بہن کا وعدہ ہے غازی تیری وفا کیلئے
گلی گلی میں تیرا میں علم لگاﺅں گی


حسین تیرے غموں میں جو روُنے والے ہیں
تیری قسم یہ نرالی توقیر والے ہیں
گنُا ہگار ہوں لیکن میں بخشاواﺅں گی

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

رہ گئی علی کی بیٹی غم اٹھانے کے لئے
حسین بھی چلے گئے ہیں سر کٹانے کےلئے


حسین کی نگاہ باوفا کو ڈھونڈنے لگی
قبر چھ مہینے والے کی بنانے کےلئے


جلادئیے سبھی چراغ دشت میں حسین نے
ایک بیٹا رہ گیا ہے شام جانے کےلئے


قاسم حزیں کی لاش ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی
ہر طرف سے دشتِ کربلا سجانے کےلئے


لگائیں گے وہ آگ آج خیمہ  حسین میں
آئے تھے جو فاطمہ کا گھر جلانے کےلئے


بتول زادیوں کے سر سے چادریں بھی چھین لی
اتنے سارے ظلم اور اس گھرانے کےلئے

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے
اُمت مٹا رہی ہے آثار پنجتن کے


تابوت سے لپٹ قاسم پکارے بابا
آنسو اخی کے دیکھو نوحے سنو بہن کے


آخر کی ہچکیوں میں شبّرنے روکے چُومے
شبیر کا گلا اور بازو بڑی بہن کے


زینب پکاری بھائی دل ڈوبتا ہے میرا
اُگلو نہ دل کے ٹکڑے صدقے گئی دہن کے


زینب ہے بال کھولے امت ہے تیر تولے
پوچھو نہ شام کی جب یہ حال ہیں وطن کے


تن پر تو ہے حسن کے گو چھد گیا ہے سارا
محتاج ہی رہیں گے شبیر تو کفن کے


یثرب میں کربلا میں بغداد و سامرہ میں
افسوس پھول بکھرے زہرا تیرے چمن کے


بیتُ النبی سے ہائے اُٹھا ہے پھر جنازہ
یثرب کی بستیوں میں جھگڑے ہیں پھر دفن کے


بابا کے دل کے ٹکرے تو نے گنے بہتر
ٹکڑے ہزار ہوں گے قاسم تیرے بدن کے


جل جائے گا بلآخر گھر فاطمہ کا زینب
بازو تمہارے ہوں گے پیچو میں ایک رسن کے


مولا نثار اپنی شمشیر کیوں اُٹھائے
جبکہ وہ جانشین تھے پیغمبرِ امن کے

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ


نانا تیرے وسدے شہر وچوں شبیر مسافر چلیا
تیرے کلمہ گو نئیں رئنڑ دیندے تیرے جگر دے ٹکڑے نوں
سنگ بالا تے مستوراں دے تیرے دین دا ناصر چلیا



صغرا دی بنی مجبوری اےدی شکل بتول دی پوری
متا لوکی سمجھن زہرا اے وچ شام بازاراں دے
اے اس لئے چھٹکے روندی نوںایدا ویر علی اکبر چلیا



جتھے لکھنا سی بسم اللہ اتے لکھ کے اناللہ
وچ کرب و بلا دی نگری دے گھر بار لٹاونڑ لئی
ہائے لے فہرست مسافراں دی درداں دا سوداگر چلیا



جدوں جندرے گھراں نوں لائے اے وینڑ بیمار نے پائے
کوئی رب دے واسطے امڑی نوں میرا پیغام پہنچاوے
میں کیویں ویر کھڈاواں گی میرا ویر علی اصغر چلیا



بچ جانڑا اے دین خدا دا گھر اجڑجانڑا زہرا دا
غازی نوں جنگ نہ کرن لئی شبیر پابند کیتا
تا ئیوں اصغر بے شیر جئے لے نال بہادر چلیا



جدی خاطر پاک رسول اے سجدہ چا کیتا طولے
سبحانہ ربی العلیٰ کیا ستر دفعہ احمد نے
اختر شبیراج سترہ دی تاں دینڑ بہتر چلیا

شاعر : اختر حسین اختر ماتمی سنگت:لاہور پارٹی راوی روڈ

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

منقبت -
 مولا عباس علیہ السلام

جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام

جب بھی آلودہ فضاﺅں میں کھلے اُن کا علم
پاک کرتا ہے فضا حضرتِ عباس کا نام

یوں لگا گھر میں میرے چاند اُتر آیا ہے
میں جو دُہراتا رہا حضرتِ عباس کا نام

تھی کڑی دھوپ مجھ پہ گھنا سایا تھا
بس میرے ذہین میں تھا حضرتِ عباس کا نام

مشکلیں آ کے میرے پاس پڑی مشکل میں
اُن کوبھی لینا پڑا حضرتِ عباس کا نام

نام عباس کا عباس نہیں ہو تا اگر
بلقین ہوتا وفا حضرتِ عباس کا نام

مجھ کو ریحان میری ماں نے سکھائی ہے یہ بات
بس وضیفہ ہو تیرا حضرتِ عباس کا نام
 

© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

منقبت - بی بی زینب علیہ السلام

اثر دعا کو ملا ہے جنابِ زینب سے
بہت قریب خدا ہے جنابِ زینب سے


علی کی بیٹی نے کلمے کی آبرو رکھ لی
صدائے صلی علی ہے جنابِ زینب سے
 

زمانہ لاکھ بجائے بُجا نہیں سکتا
چراغِ دیں کی ضیا ہے جنابِ زینب سے
 

نہ ہو شفاعت ِ بنتِ علی تو کچھ بھی نہیں
حیاتِ عرض و سماں ہے جنابِ زینب سے
 

سروں کو چادریں بخشی ہیں بے ردا ہو کر
وقار ِ فرق وردا ہے جنابِ زینب سے
 

اندھیرے شام کی تقدیر ہو نہیں سکتے
چراغِ شام جلا ہے جنابِ زینب سے
 

وہ ہاتھ کردنِ شبیر پر نہیں کانپا
جو ہاتھ کانپ رہا ہے جنابِ زینب سے
 

جنابِ زہراسے بے شک چلی ہے نسل ِ نبی
نبی کا دین چلا ہے جنابِ زینب سے

© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

منقبت - بی بی زینب علیہ السلام

اثر دعا کو ملا ہے جنابِ زینب سے
بہت قریب خدا ہے جنابِ زینب سے

علی کی بیٹی نے کلمے کی آبرو رکھ لی
صدائے صلی علی ہے جنابِ زینب سے
 

زمانہ لاکھ بجائے بُجا نہیں سکتا
چراغِ دیں کی ضیا ہے جنابِ زینب سے
 

نہ ہو شفاعت ِ بنتِ علی تو کچھ بھی نہیں
حیاتِ عرض و سماں ہے جنابِ زینب سے
 

سروں کو چادریں بخشی ہیں بے ردا ہو کر
وقار ِ فرق وردا ہے جنابِ زینب سے
 

اندھیرے شام کی تقدیر ہو نہیں سکتے
چراغِ شام جلا ہے جنابِ زینب سے
 

وہ ہاتھ کردنِ شبیر پر نہیں کانپا
جو ہاتھ کانپ رہا ہے جنابِ زینب سے
 

جنابِ زہراسے بے شک چلی ہے نسل ِ نبی
نبی کا دین چلا ہے جنابِ زینب سے

© COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

مُظلُوم بِے وطن یہ میرا موُلارضا ہے
ہائے جِس کو زہر لوگو مُسلماں نے دیا ہے


سب آنکھیں کرو بند دُہائی ہے دُہائی
اِک بی بی  عزاداروں یہاں شام سے آئی
لِپٹی ہے جنازے سے نہیں سر پر ردِا ہے


آئے ہیں جنازے پہ نبی شاہِ اُمم بھی
کلثوم رقیہ بھی ہے معصُومہِ قم بھی
وہ بی بی ہے کربِل میں جِلی جِسکی عبا ہے


مامون عباسی کی عنایت ہے یہ لوگو
ہائے آلِ پےمبر سے عداوت ہے یہ لوگو
سیّدوں پہ ذرا دیکھو یہ اُمت کی وفا ہے


روُتے ہیں فرشتے بھی زمیں اور زماں بھی
ہائے لوح و قلم عرشِ بریں کون و مکاں بھی
خیرُالنساءکے لعل کے ماتم کی صدا ہے


شاعر: ۔ لعل حسین حیدری



 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

خالق اپنے پیغمبر دا اِک وار ظہور ولاکر میکوں اکبر پتر عطا کر
محرومہ ماں دا پتر ہاں میں مینڈی ایہہ منظور دعا کر میکوں اکبر پتر عطا کر


مینڈا نانا ٹر گیا دنیا توں اودے روپ دا جلد ظہور ہووے
میکوں ڈے فرزند رسول جیا مینڈا بچڑا عین درود ہووے
ساڈا حق کوئی دیوے نہ دیوے توں اپنا خمس ادا کر


اے مالک ڈیکھ حسین ہاں میں وعدہ ہر حال نبھا سکدا
مسلاہندے سوہنڑے بچڑے دا میں تحت الحنک ولا سکدا
پیﺅ پتر دی لاش کیویں چیندا کربل توں آپ نگاہ کر

 
مینڈی بہن دی حسرت ہے خالق او کوں برقعےا دے وچ پالن دی
میں ذمے واری چاناں ہاں او دی لاش کوں آپ سنبھالن دی
او دی آمد نال جہان اوتے مینڈی سرخ رو کرب و بلا کر


رت روون واسطے شام دے وچ مینڈا عابد پتر بیمار سہی
اکبر بس سال اٹھارہ دا مینڈے ویڑے دا مہمان سہی
توڑے کربل دے موسم تائیں سجاد کوں دان بھرا کر


ہووے معجزہ پاک شباب او دا کائنات وچ پاک قرآن وانگوں
اودا جگر نماز جیا ہووے اودا قد ہووے اذان وانگوں
اودی ٹور دے بارے اے خالق میری بھینڑ دے نال صلاح کر


او واپس آوے نہ آوے جیﺅندا خونی میدان کولوں
لیکن اے آس ہے پیغمبر شالا بچ پاوے ہضیان کولوں
اےدے درد وچ رون دے کیتے مینڈے گھر دھی توں زہرا کر


گوہر شاہ آکھے نسب دے وچ عمران ہاں آل کھڑا منگدا
جیوے لوڑ اے اکبر بچڑے دی اےویں دھی وی نال کھڑا منگدا
ہووے عین بتول حجاب دے وچ اوکوں ظاہر وچ صغرا کر

نوحہ خواں سنگت: ہائے شبیر (ناصر اصغر پارٹی)انجمن شباب المومنین کراچی

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

نوحہ

کاظم امام نوں ملی کس جرم کی سزا
بابا رضا دا قید گیا ظلم دی نبہا


میت تے وین کیتے جنابِ بتول نے
ہن تاں کوئی غریب دے زنجیر جو لوہا


تنگ اتنا قید خانہ تاریخ ہے گواہ
کروٹ بدل نئی سکدا وارث رسول دا


ہائے امام دی زیارت دے واسطے
بغداد والے پل تے جنازہ رکھا ریا


تنویر ہویا مر کے رہا بے وطن اسیر
ظلم و ستم دی ہو گئی سید تے انتہا

 © COPYRIGHT
2000-2008 www.matamdari.com

Older Posts »